سندھ چل پڑا بلوچستان کی راہ پر

Posted: March 25, 2012 in news
Tags: , ,

سندھو دیش کے نعرے ہم تب تو روزانہ سنتے تھے جب اس تحریک کے بانی رہنما اور سندھ کی پاکستان سے جڑے تاریخ کی سب سے زیادہ معتبر قوم پرست سیاست دان ساہیں جی ایم سیّدسندھ کی حقوق کی کے لیے جلسے اور جلوسوں کی صورتوں میں سندھیوں کو متحرک کرنے میں سرگرم تھے لیکن سندھو دیش کے نعرے تب بھی نہیں تھمے جب ساہیں جی ایم سیّد بستر مرگ پہ پڑ کر سندھی، بلوچ اور پشتون قوم پرستوں سے صحت مندی کی دعائیں وصول کر رہے تھے ۔ اور جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے تو بھی سندھ کی فضاؤں نے اسٹیبلشمنٹ اور پنجاب کے خلاف گرجنا بند نہیں کیا ۔
سائیں جی ایم سیّد چونکہ اپنی زندگی میں سندھ کی قوم پرستانہ سیاست کے مرکزی کردار رہے تھے شاید اسی وجہ سے ان کی وفات کے بعد سندھو دیش کی تحریک میں شامل طلباء اور نوجوان اپنا سیاسی محور عارضی طور پر کھو جانے کے بعد سیاسی انتشاروں کے زد میں آگئے لیکن سندھی قوم پرستوں میں پھیل جانے والا انتشار بھی بلوچستان کے قوم پرستوں میں پیدا ہونے والے انتشار کی طرح ان کے مستقبل کے لیے سبق آموز اور مفید رہا۔
ذاتی طور پر سندھ کی سیاست میرے لیے ہمیشہ حیرت اور تفریح کا باعث رہی ہے ۔ ایک تو سندھ بلوچستان سے سرحدی طور پر جڑے رہنے اور اندرون سندھ بلوچوں کی اکثریت کے باوجود سندھی سیاسی طور پر بلوچوں سے ذرا بھی خوف محسوس نہیں کرتے ۔ تقریباً تیس بلوچ قبیلوں کی اکثریتی آبادی سندھ میں آباد ہے سندھ کی کل زرعی رقبے کا پچاس فیصد سے زیادہ زرعی زمینیں بھی بلوچوں کے پاس ہیں لیکن اس کے باوجود بھی سندھی بلوچوں پر لسانی اور ثقافتی طور پر بلوچوں پر حاوی ہیں ۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ سندھ میں آباد بلوچوں کی اکثریتی آبادی لسانی صورت میں سندھیوں میں ضم ہوچکی ہے تو میرے خیال میں زیادہ درست ہوگا۔ اسی طرح کی دوسری مثال عرب ملک اومان ہے جہاں تقریباً آدھی آبادی بلوچوں کی ہے لیکن ان کی بھی اکثریت سیاسی اور لسانی صورت میں اومان کے قومی مفادات کے مطابق عربوں میں ضم ہوچکی ہے ۔
ایک چیز جو میں اکثرسندھ میں دیکھتا ہوں وہ بلوچستان کے حالات کا سندھ پر برائے راست اثر اندازہونا ہے ۔ اگر ہم نواب بگٹی صاحب کی شہادت سے بہت پہلے انیس سو ستر کی دھائی میں بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن اور مزاحمتی کاروائیوں کا جائزہ لیں تو بھی ہم سندھیوں کو بلوچوں کے قریب پاتے ہیں ۔
لیکن سندھ اور بلوچستان کی حالات اور سیاست میں بھی بہت فرق پایا جاتا ہے۔ بلوچستان میں تحریک ایک ہی ہے اور بلوچستان میں موجود تمام سیاسی جماعتیں بلوچستان کی حقوق کی باتیں کرتی ہیں ۔ حتیٰ کہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے قومی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ مذہبی جماعتوں کے رہنما بھی کسی ایک طبقے کی نہیں بلوچستان کی حقوق کی بات کرتے ہیں ۔ یہ بات الگ ہے کہ کچھ کا موقف بلوچستان کی صوبائی خودمختاری تک محدود ہے اور بیشتر بلوچستان کی حق خود ارادیت اور آزادی کی بات کرتے ہیں لیکن مجموعی طور پر سیاست سب کی قوم پرستانہ اور بلوچستان کے حقوق کی بنیاد پر قائم ہے اور اس بات پر سب کی موقف ایک جیسی ہے کہ بلوچستان کے ساتھ وفاق نے زیادتیاں کیں ہیں اور وفاق پنجاب کے زیر اثر ہے ۔
لیکن اس کے برعکس سندھ کی سیاست پر اسٹبلشمنٹ اور جاگیرداروں کا مشترکہ قبضہ ہے جن کی نمائندگی بھٹو خاندان اور پاکستان پیپلز پارٹی کرتی رہی ہے جو سندھ کے قوم پرستوں کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ اس کے علاوہ سندھ کی سیاست پر متحدہ قومی موومنٹ کا بھی بڑا اثر ہے جو سندھ کو تقسیم کرکے اس کے دو بڑے شہروں کراچی اور حیدرآباد کو ملا کر اپنے لیے ایک نئے صوبے کی قیام کے لیے ایک غیراعلانیہ تحریک کی سرپرستی کر رہی ہے۔ اور جس کا لگام اس غیر فطری تحریک کی تخلیق سے لیکر آج تک فوج کے ہاتھ میں ہے۔ ان کے بعد سندھ کے قوم پرستوں کا نمبر ہے اور قوم پرستوں کے بعد ہاری کسان تحریک ہے ۔ ہاری کسان تحریک کے بعد اے این پی کی شکل میں پشتون قوم پرست ہیں جو سندھ میں آباد پشتونوں کی نمائندگی کرتی ہے ۔ اے این پی کے بعد بلوچ قوم پرست جماعتیں ہیں اور ان کی سیاست کا محور بلوچستان ہے ۔ سندھ میں قوم پرست سیاسی جماعتوں کے مشکلات بہت زیادہ ہیں ۔ لیکن ماضی کی نسبت بہت کم ہیں ۔
گذشتہ چند سالوں سے سندھ میں سرگرم مسلح زیر زمین تنظیم سندھو دیش لبریشن آرمی کی حمایت اور مقبولیت میں بہت کم عرصے میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے ۔ اس سے یہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مسقتبل قریب میں سندھ کی قومی تحریک اور زیادہ طاقتور صورت اختیار کرے گی۔
گوکہ سندھ امن و سکون کی پیغام دینے والے صوفیوں کی سرزمین ہے لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ ان صوفیوں کا احترام کرنے والے ڈاکو بھی عوام کی نظروں میں کافی عزت رکھتے ہیں ۔ یہاں میں ایک مثال اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوا اُس منظر کی دے سکتا ہوں کہ جب بدنام زمانہ ڈاکو محب شہدی نے بذریعہ اخبار اعلان کیا کہ وہ شاہ عبدالطیف بھٹائی کی مزار پر چادر چڑھانے جارہے ہیں تو اس کی اعلان کردہ شیڈول کے مطابق ہم بھی بٹھ شاہ پہنچ گئے ۔ وہ آیا ۔اُس نے مزار پر حاضری دی اور چادر چڑھا کر چلا گیا ۔۔ سب نے آتے ہوئے ویلکم کیا اور جاتے ہوئے خدا حافظ۔ نظروں سے تو پولیس نے بھی ۔۔
سندھ کی سیاست پر مزاروں کا بڑا اثر ہے ۔ اور ہم سب جانتے ہیں کہ اگر سندھو دیش لبریشن آرمی نے گڑھی خدا بخش میں بھٹو خاندان کی مزار وں پر اگر ایک دفعہ بھی چادریں چڑھا دیں تو اس کا آسان الفاظ میں یہی مطلب ہوگا کہ پی پی پی نہ رہا ۔
اسی طرح سندھ کے قوم پرست ایم کیو ایم کا بھی آسانی سے توڑ کر سکتے ہیں ۔ جس طرح وہ سندھ اور بلوچستان کے مشترکہ سیاسی مفادات کے حصول میں یورپ میں بلوچوں کے قریب ہیں اگر انہی مقاصد کے لیے اتنی قربت کراچی جیسے بڑے شہر میں وہ بلوچوں کے ساتھ پیدا کر سکیں۔ اگر وہ ایسا کر سکتے ہیں تو پھر ان کی ریلی ہزاروں کی نہیں لاکھوں کی ہوگی ۔
miro mayar

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s